غزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے

کلیم عاجز


بیاں جب کلیمؔ اپنی حالت کرے ہے
غزل کیا پڑھے ہے قیامت کرے ہے
بھلا آدمی تھا پہ نادان نکلا
سنا ہے کسی سے محبت کرے ہے
کبھی شاعری اس کو کرنی نہ آتی
اسی بے وفا کی بدولت کرے ہے
چھری پر چھری کھائے جائے ہے کب سے
اور اب تک جیے ہے کرامت کرے ہے
کرے ہے عداوت بھی وہ اس ادا سے
لگے ہے کہ جیسے محبت کرے ہے
یہ فتنے جو ہر اک طرف اٹھ رہے ہیں
وہی بیٹھا بیٹھا شرارت کرے ہے
قبا ایک دن چاک اس کی بھی ہو گی
جنوں کب کسی کی رعایت کرے ہے
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
متقارب مثمن سالم
فہرست