مرزا غالب


بہادر شاہ ظفر


حیدر علی آتش


داغ دہلوی


شیخ ابراہیم ذوق


مصطفٰی خان شیفتہ


باقی صدیقی


جون ایلیا


خواجہ میر درد


قمر جلالوی


عرفان صدیقی


جمال احسانی


احسان دانش


بیان میرٹھی


زہرا نگاہ


جلیل مانک پوری


حسرت موہانی


سیماب اکبر آبادی


شاد عظیم آبادی


شکیل بدایونی

کوشش تو بہت کی ہم نے مگر پایا نہ غمِ ہستی سے مفر
ویرانیِ دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے
ہر چیز نہیں ہے مرکز پر اک ذرہ ادھر اک ذرہ ادھر
نفرت سے نہ دیکھو دشمن کو شاید وہ محبت کر بیٹھے
تقدیر کی گردش کیا کم تھی اس پر یہ قیامت کر بیٹھے
بے تابی دل جب حد سے بڑھی گھبرا کے محبت کر بیٹھے
نمایاں دونوں جانب شان فطرت ہوتی جاتی ہے
انہیں مجھ سے مجھے ان سے محبت ہوتی جاتی ہے
بیت گیا ہنگام قیامت روزِ قیامت آج بھی ہے
ترکِ تعلق کام نہ آیا ان سے محبت آج بھی ہے
یہ کیا ستم ظریفی فطرت ہے آج کل
بے گانگی شریک محبت ہے آج کل
غم ہے کہ ایک تلخ حقیقت ہے آج کل
دل ہے کہ سوگوار محبت ہے آج کل
گلشن ہو نگاہوں میں تو جنت نہ سمجھنا
دم بھر کی عنایت کو محبت نہ سمجھنا
نسبت ہی نہیں کوئی محبت کو خرد سے
اے دل کبھی مفہوم محبت نہ سمجھنا
ویرانی ماحول کو بربادیِ دل کو
ہر دور میں آثار محبت نہ سمجھنا
دیکھے جو تمہیں کوئی محبت کی نظر سے
للہ شکیلؔ اس کو محبت نہ سمجھنا
شب کی بہار صبح کی ندرت نہ پوچھئے
کتنا حسیں ہے خواب محبت نہ پوچھئے
دل کو نہ ہو گی تاب غمِ بے توجہی
للہ داستان محبت نہ پوچھئے

احمد فراز


فراق گورکھپوری


قتیل شفائی


کلیم عاجز


محسن احسان


محسن نقوی


میرا جی


نوح ناروی