پھر موسمِ گل یاد دلانے کے لیے آ

کلیم عاجز


زخموں کے نئے پھول کھلانے کے لیے آ
پھر موسمِ گل یاد دلانے کے لیے آ
مستی لیے آنکھوں میں بکھیرے ہوئے زلفیں
آ پھر مجھے دیوانہ بنانے کے لیے آ
اب لطف اسی میں ہے مزا ہے تو اسی میں
آ اے مرے محبوب ستانے کے لیے آ
آ رکھ دہن زخم پہ پھر انگلیاں اپنی
دل بانسری تیری ہے بجانے کے لیے آ
ہاں کچھ بھی تو دیرینہ محبت کا بھرم رکھ
دل سے نہ آ دنیا کو دکھانے کے لیے آ
مانا کہ مرے گھر سے عداوت ہی تجھے ہے
رہنے کو نہ آ آگ لگانے کے لیے آ
پیارے تری صورت سے بھی اچھی ہے جو تصویر
میں نے تجھے رکھی ہے دکھانے کے لیے ، آ
آشفتہ کہے ہے کوئی دیوانہ کہے ہے
میں کون ہوں دنیا کو بتانے کے لیے آ
کچھ روز سے ہم شہر میں رسوا نہ ہوئے ہیں
آ پھر کوئی الزام لگانے کے لیے آ
اب کے جو وہ آ جائے تو عاجزؔ اسے لے کر
محفل میں غزل اپنی سنانے کے لیے آ
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست