ہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئے

مجروح سلطان پوری


بہ نام کوچۂ دل دار گل برسے کہ سنگ آئے
ہنسا ہے چاک پیراہن نہ کیوں چہرے پہ رنگ آئے
بچاتے پھرتے آخر کب تلک دست عزیزاں سے
انہیں کو سونپ کر ہم تو کلاہ نام و ننگ آئے
ہنسو مت اہلِ دل اپنی سی جانو بزم خوباں میں
چلے آئے ادھر ہم بھی بہت جب دل سے تنگ آئے
کہاں صحنِ چمن میں بات کوئے سرفروشاں کی
ادھر سے سادہ رو نکلے ادھر سے لالہ رنگ آئے
کرو مجروحؔ تب دار و رسن کے تذکرے ہم سے
جب اس قامت کے سائے میں تمہیں جینے کا ڈھنگ آئے
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست