بھرپور رہی بہار کچھ دیر

ناصر کاظمی


ٹھہرا تھا وہ گلعذار کچھ دیر
بھرپور رہی بہار کچھ دیر
اک دھوم رہی گلی گلی میں
آباد رہے دیار کچھ دیر
پھر جھوم کے بستیوں پہ برسا
ابرِ سرِ کوہسار کچھ دیر
پھر لالہ و گل کے میکدوں میں
چھلکی مئے مشکبار کچھ دیر
پھر نغمہ و مے کی صحبتوں کا
آنکھوں میں رہا خمار کچھ دیر
پھر شامِ وصالِ یار آئی
بہلا غمِ روزگار کچھ دیر
پھر جاگ اٹھے خوشی کے آنسو
پھر دل کو ملا قرار کچھ دیر
پھر ایک نشاطِ بے خودی میں
آنکھیں رہیں اشکبار کچھ دیر
پھر ایک طویل ہجر کے بعد
صحبت رہی خوش گوار کچھ دیر
پھر ایک نگاہ کے سہارے
دنیا رہی سازگار کچھ دیر
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست