رات کا جادو بکھر کر رہ گیا

ناصر کاظمی


صبح کا تارا ابھر کر رہ گیا
رات کا جادو بکھر کر رہ گیا
ہم سفر سب منزلوں سے جا ملے
میں نئی راہوں میں مر کر رہ گیا
کیا کہوں اب تجھ سے اے جوئے کم آب
میں بھی دریا تھا اتر کر رہ گیا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست