ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے

ناصر کاظمی


شکوہ بہ طرزِ عام نہیں آپ سے مجھے
ناکام ہوں کہ کام نہیں آپ سے مجھے
کہتا سلوک آپ کے ایک ایک سے مگر
مطلوب انتقام نہیں آپ سے مجھے
اے منصفو حقائق و حالات سے الگ
کچھ بحثِ خاص و عام نہیں آپ سے مجھے
یہ شہرِ دل ہے شوق سے رہیے یہاں مگر
امیدِ انتظام نہیں آپ سے مجھے
فرصت ہے اور شام بھی گہری ہے کس قدر
اس وقت کچھ کلام نہیں آپ سے مجھے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست