ہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیں

نوح ناروی


یہ میرے پاس جو چپ چاپ آئے بیٹھے ہیں
ہزار فتنۂ محشر اٹھائے بیٹھے ہیں
عدو سے بزمِ عدو میں لڑا رہے ہو نگاہ
نہیں خیال کہ اپنے پرائے بیٹھے ہیں
کہیں نہ ان کی نظر سے نظر کسی کی لڑے
وہ اس لحاظ سے آنکھیں جھکائے بیٹھے ہیں
کوئی حسیں نظر آیا یہ بے قرار ہوئے
جناب نوحؔ کو ہم آزمائے بیٹھے ہیں
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست