تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو

ماجد صدیقی


لکھو تم ہمیں چٹھیاں دوستو
تمہیں ایسی فرصت کہاں دوستو
یہ دشت سخن اور یہ خاموشیاں
سلگتی ہے جیسے زباں دوستو
چمن میں مرے حال پر ہر کلی
بجاتی ہے اب تالیاں دوستو
کوئی بات جیسے نہ لوٹائے گا
خدا بھی برنگ بتاں دوستو
جسے ڈھونڈتے ہو وہ ماجدؔ بھلا
غمِ جاں سے فارغ کہاں دوستو
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعَل
متقارب مثمن محذوف
فہرست