کھل جائے گا حرفِ مدعا بھی

ماجد صدیقی


لے ہاتھ سے ہاتھ اب ملا بھی
کھل جائے گا حرفِ مدعا بھی
کیا ہم سے ملا سکے گا آنکھیں
ہو تجھ سے کبھی جو سامنا بھی
سہمی تھی مہک گلوں کے اندر
ششدر سی ملی ہمیں ہوا بھی
جس شخص سے جی بہل چلا تھا
وہ شخص تو شہر سے چلا بھی
کیوں نام ترا نہ لیں کسی سے
اب قید یہ ہم سے تو اٹھا بھی
ماجدؔ کو علاوہ اس سخن کے
ہے کسب معاش کی سزا بھی
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست