نذر صر صر بھی ہمیں برگ ہوا کرتے ہیں

ماجد صدیقی


موسموں کو نئے عنوان دیا کرتے ہیں
نذر صر صر بھی ہمیں برگ ہوا کرتے ہیں
اپنے احساس نے اک روپ بدل رکھا ہے
بت کی صورت جسے ہم پوج لیا کرتے ہیں
ان سے شکوہ؟ مری توبہ! وہ دلوں کے مالک
جو بھی دیتے ہیں بصد ناز دیا کرتے ہیں
ہم کہ شیرینی لب جن سے ہے ماجدؔ منسوب
کون جانے کہ ہمیں زہر پیا کرتے ہیں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست