ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی

ماجد صدیقی


مہک اٹھیں یہ فضائیں جو لب ہلائیں کبھی
ہمیں بھی چھیڑ کے دیکھیں تو یہ ہوائیں کبھی
یہ ان لبوں ہی تلک ہے ابھی ضیا جن کی
بنیں گی نور کے سوتے یہی صدائیں کبھی
وہ خوب ہے پہ اسے اک ہمیں نے ڈھونڈا ہے
جو ہو سکے تو ہم اپنی بھی لیں بلائیں کبھی
کبھی تو موت کا یہ ذائقہ بھی چکھ دیکھیں
وہ جس میں جان ہے اس سے بچھڑ بھی جائیں کبھی
وہ حسن جس پہ حسیناؤں کو بھی رشک آئے
اسے بھی صفحۂ قرطاس پر تو لائیں کبھی
وہی کہ جس سے تکلم کو ناز ہے ہم پر
وہ رنگ بھی تو زمانے کو ہم دکھائیں کبھی
ہمیں پہ ختم ہے افسردگی بھی، پر ماجدؔ
کھلائیں پھول چمن میں جو مسکرائیں کبھی
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست