زخم کی سوداگری کرتے ہیں ہم

سید ضمیر جعفری


شرح درد عاشقی کرتے ہیں ہم
زخم کی سوداگری کرتے ہیں ہم
دوستوں تم سے کوئی شکوہ نہیں
دوستو تم کو بری کرتے ہیں ہم
زندگی تیری سہولت کے لیے
کچھ ارادوں میں کمی کرتے ہیں ہم
بجھ رہی ہیں گھر کی دیواریں مگر
مقبروں پر روشنی کرتے ہیں ہم
ایک رسمی نیک چلنی کے لیے
کن گناہوں کی نفی کرتے ہیں ہم
ہم کو سب رسوائیاں منظور ہیں
احترام آدمی کرتے ہیں ہم
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست