زمیں ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے

سیف الدین سیف


ہر اک چلن میں اسی مہرباں سے ملتی ہے
زمیں ضرور کہیں آسماں سے ملتی ہے
سرود عشق میں نغمات سحر شامل ہیں
تری خبر بھی مری داستاں سے ملتی ہے
تری نگاہ سے آخر عطا ہوئی دل کو
وہ اک خلش کہ غم دو جہاں سے ملتی ہے
چلے ہیں سیفؔ وہاں ہم علاج غم کے لیے
دلوں کو درد کی دولت جہاں سے ملتی ہے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست