اے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے

سیماب اکبر آبادی


ہستی کو مری مستیِ پیمانہ بنا دے
اے بے خبری حاصل مے خانہ بنا دے
طالب ہوں میں اس ایک نگاہ دو اثر کا
جو ہوش میں لا کر مجھے دیوانہ بنا دے
اے برہمن اک دن بتِ پندار کو اپنے
توڑ اور چراغ در بت خانہ بنا دے
کہہ دو کہ بہار آئے تو بے کار نہ بیٹھے
دیوانہ بنے یا مجھے دیوانہ بنا دے
دیوانگی عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست