ورنہ انساں میں کیا نہیں ہے

سیماب اکبر آبادی


ادراک خود آشنا نہیں ہے
ورنہ انساں میں کیا نہیں ہے
کیا ڈھونڈنے جاؤں میں کسی کو
اپنا مجھے خود پتا نہیں ہے
کیوں جامِ شرابِ ناب مانگوں
ساقی کی نظر میں کیا نہیں ہے
حسن اور نوازش محبت
ایسا تو کبھی ہوا نہیں ہے
سیمابؔ چمن میں جوشِ گل سے
گنجائش نقشِ پا نہیں ہے
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست