میں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہو گی

سیماب اکبر آبادی


بڑی دلچسپیوں سے صبح شامِ زندگی ہو گی
میں دیکھوں گا انہیں اور ساری دنیا دیکھتی ہو گی
کچھ ایسے درد سے فرقت میں میں نے ہاتھ اٹھائے ہیں
دعا بھی کامیابی کی دعائیں مانگتی ہو گی
سرِ محشر حجاب و شوق کا اک معرکہ ہو گا
انہیں اپنی پڑی ہو گی مجھے اپنی پڑی ہو گی
نہ کرتے حشر کو رسوا کبھی دن کے اجالے میں
خبر کیا تھی تری فرقت کی رات اتنی بڑی ہو گی
تعجب کیا لگے گر آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہو گی
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست