کہیں زندگی کی بارش کہیں قتلِ عام دیکھا

شکیل بدایونی


تری انجمن میں ظالم عجب اہتمام دیکھا
کہیں زندگی کی بارش کہیں قتلِ عام دیکھا
میری عرض شوق پڑھ لیں یہ کہاں انہیں گوارا
وہیں چاک کر دیا خط جہاں میرا نام دیکھا
بڑی منتوں سے آ کر وہ مجھے منا رہے ہیں
میں بچا رہا ہوں دامن مرا انتقام دیکھا
اے شکیلؔ روح پرور تری بے خودی کے نغمے
مگر آج تک نہ ہم نے ترے لب پہ جام دیکھا
فَعِلات فاعِلاتن فَعِلات فاعِلاتن
رمل مثمن مشکول
فہرست