دیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سے

شکیل بدایونی


تصویر بناتا ہوں تری خونِ جگر سے
دیکھا ہے تجھے میں نے محبت کی نظر سے
جتنے بھی ملے رنگ وہ سب بھر دیے تجھ میں
اک رنگ وفا اور ہے لاؤں وہ کدھر سے
ساون تری زلفوں سے گھٹا مانگ کے لایا
بجلی نے چرائی ہے تڑپ تیری نظر سے
میں دل میں بلا کر تجھے رخصت نہ کروں گا
مشکل ہے ترا لوٹ کے جانا مرے گھر سے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست