بادہ خواری سی بادہ خواری ہے

شکیل بدایونی


بے خودی ہے نہ ہوشیاری ہے
بادہ خواری سی بادہ خواری ہے
حسن مصروف پردہ داری ہے
جانے اب کس نظر کی باری ہے
تو نے دیکھی تو ہو گی اے ناصح
وہ محبت جو اختیاری ہے
کم نہیں شورش نفس لیکن
زندگی پر جمود طاری ہے
غمِ الفت تو دل سے ہار چکا
اب غمِ زندگی کی باری ہے
جس چمن میں کبھی نہ آئے بہار
اس چمن کی خزاں بھی پیاری ہے
ہائے وہ بادہ کش کہ جس نے شکیلؔ
زندگی بے پئے گزاری ہے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست