مرا افسانہ دہرایا کریں گے

شکیل بدایونی


وہ یوں کھو کے مجھے پایا کریں گے
مرا افسانہ دہرایا کریں گے
ستم اپنے جو یاد آیا کریں گے
تو دل ہی دل میں پچھتایا کریں گے
غرورِ حسن کو باطل سمجھ کر
سراپا عشق بن جایا کریں گے
نہ ہو گی تابِ ضبطِ غم جب ان کو
یقیناً اشک بھر لایا کریں گے
قیامت ہوں گی نازک دل کی آہیں
ہر اک ذرے کو تڑپایا کریں گے
فلک ماتم کرے گا بے کسی پر
مہ و انجم ترس کھایا کریں گے
مجھے ہر گام پر ٹھکرانے والے
مجھی پر ناز فرمایا کریں گے
نہ ہو گی جب سکوں کی کوئی صورت
کچھ اپنے دل کو سمجھایا کریں گے
ہر اک تدبیر جب ناکام ہو گی
تو مجھ کو رو بہ رو پایا کریں گے
نگاہوں سے ملا کر وہ نگاہیں
یکایک رخ بدل جایا کریں گے
وہی ناز و ادا کی شکل ہو گی
اسی صورت سے شرمایا کریں گے
میں کہتا ہی رہوں گا قصۂ غم
وہ سنتے سنتے سو جایا کریں گے
مگر جب ہو گا عالم عالمِ خواب
نہ پا کر مجھ کو گھبرایا کریں گے
شکیلؔ اپنے لیے لمحات فرصت
پیام نو بہ نو لایا کریں گے
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
ہزج مسدس محذوف
فہرست