یہ فتنہ گر تو بہانے تلاش کرتے ہیں

شکیل بدایونی


غمِ جہاں کے فسانے تلاش کرتے ہیں
یہ فتنہ گر تو بہانے تلاش کرتے ہیں
رباب امن و سکوں کے حسین تاروں میں
شکستِ دل کے ترانے تلاش کرتے ہیں
یہ انتہا ہے جنون ہوس پرستی کی
پرائے گھر میں خزانے تلاش کرتے ہیں
نئے نظام کی بنیاد توڑنے والے
وفا شعار پرانے تلاش کرتے ہیں
ستم نواز دلوں کو جو سازگار نہ ہو
شکیلؔ ہم وہ زمانے تلاش کرتے ہیں
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست