اپنی دنیا خراب کون کرے

شکیل بدایونی


شکوۂ اضطراب کون کرے
اپنی دنیا خراب کون کرے
گن تو لیتے ہیں انگلیوں پہ گناہ
رحمتوں کا حساب کون کرے
عشق کی تلخ کامیوں کے نثار
زندگی کام یاب کون کرے
ہم سے مے کش جو توبہ کر بیٹھیں
پھر یہ کارِ ثواب کون کرے
غرق جامِ شراب ہو کے شکیلؔ
شغل جام و شراب کون کرے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست