سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے

شکیل بدایونی


ہم ان کی انجمن کا سماں بن کے رہ گئے
سر تا قدم نگاہ و زباں بن کے رہ گئے
پلٹے مقدرات کچھ اس طور سے کہ ہم
تصویر انقلاب جہاں بن کے رہ گئے
مظلوم دل کی تلخ نوائی تو دیکھنا
نغمے جو لب تک آئے فغاں بن کے رہ گئے
اب ہم ہیں اور حقیقت آلام ہے شکیلؔ
لمحے خوشی کے خوابِ گراں بن کے رہ گئے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست