دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی

اکبر حمیدی


دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی
دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی
ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو
زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی
پاک بازوں کی یہ بستی ہے فرشتوں کا نگر
کوئی اس شہر میں مے خوار نہیں ہے بھائی
عشق کرنا ہے تو چھٹی نہیں کرنی کوئی
عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ہے بھائی
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست