تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی

احمد فراز


سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی
دل نے ذرا سے غم کو قیامت بنا دیا
ورنہ وہ آنکھ اتنی زیادہ خفا نہ تھی
یوں دل لرز اٹھا ہے کسی کو پکار کر
میری صدا بھی جیسے کہ میری صدا نہ تھی
برگِ خزاں جو شاخ سے ٹوٹا وہ خاک تھا
اس جاں سپردگی کے تو قابل ہوا نہ تھی
جگنو کی روشنی سے بھی کیا کیا بھڑک اٹھی
اس شہر کی فضا کہ چراغ آشنا نہ تھی
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست