مرزا غالب


بہادر شاہ ظفر


حیدر علی آتش


داغ دہلوی


شیخ ابراہیم ذوق


مصحفی غلام ہمدانی


مصطفٰی خان شیفتہ


مومن خان مومن


میر مہدی مجروح


فیض احمد فیض


مرزا رفیع سودا


یگانہ چنگیزی


باقی صدیقی


جون ایلیا


جگر مراد آبادی


خواجہ میر درد


عبدالحمید عدم


قمر جلالوی


عرفان صدیقی


الطاف حسین حالی


رئیس فروغؔ


احسان دانش


اختر شیرانی


ادا جعفری


بہزاد لکھنوی


بشیر بدر


زہرا نگاہ


سدرشن فاکر


ظہیر کاشمیری


علی سردار جعفری


احمد راہی


اختر امام رضوی


تلوک چند محروم


جوش ملیح آبادی


حسرت موہانی


حفیظ جالندھری


خاطر غزنوی


سید ضمیر جعفری


سیف الدین سیف


سیماب اکبر آبادی


شاد عظیم آبادی


شان الحق حقی


شکیل بدایونی


عزیز حامد مدنی


فانی بدایونی


اختر ہوشیارپوری


افضل منہاس


اکبر حمیدی


احمد فراز

پھر کوئی ہاتھ ہے دل پر جیسے
پھر ترا عہدِ وفا یاد آیا
مجھے وفا کی طلب ہے مگر ہر اک سے نہیں
کوئی ملے مگر اس یار بے وفا کی طرح
آ کہ اب تسلیم کر لیں تو نہیں تو میں سہی
کون مانے گا کہ ہم میں بے وفا کوئی نہیں
یہ قربتیں ہی تو وجہ فراق ٹھہری ہیں
بہت عزیز ہیں یاران بے وفا مجھ کو
تو بھی نادم ہے زمانے سے فراز
وہ بھی نا خوش ہیں وفا سے تیری
وہ زندگی ہو کہ دنیا فرازؔ کیا کیجے
کہ جس سے عشق کرو بے وفا نکلتی ہے
سو دوریوں پہ بھی مرے دل سے جدا نہ تھی
تو میری زندگی تھی مگر بے وفا نہ تھی
پیام آئے ہیں اس یار بے وفا کے مجھے
جسے قرار نہ آیا کہیں بھلا کے مجھے
گلہ فضول تھا عہدِ وفا کے ہوتے ہوئے
سو چپ رہا ستمِ ناروا کے ہوتے ہوئے
شہرِ محبت، ہجر کا موسم، عہدِ وفا اور میں
تو تو اس بستی سے خوش خوش چلا گیا، اور میں؟
کل جب رکے گا بازوئے قاتل تو دیکھنا
اے اہلِ شہر تم تھے شہیدِ وفا کہ میں
سلسلے جو وفا کے رکھتے ہیں
حوصلے انتہا کے رکھتے ہیں
اس سے پہلے کہ بے وفا ہو جائیں
کیوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائیں
کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اس سے
جو یوں کیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اس سے
ہر اک سے کون محبت نباہ سکتا ہے
سو ہم نے دوستی یاری تو کی، وفا نہیں کی
غیرتِ عشق سلامت تھی انا زندہ تھی
وہ بھی دن تھے کہ رہ و رسمِ وفا زندہ تھی
غلط ہے جو سنا پر آزما کر
تجھے اے بے وفا دیکھا نہ جائے

امیر مینائی


شاذ تمکنت


فراق گورکھپوری


قتیل شفائی


کلیم عاجز


محبوب خزاں


مجروح سلطان پوری


ناصر کاظمی