ظاہر میں آپ مجھ سے ملے بھی تو کیا ملے

تلوک چند محروم


ملنے کا جب مزا ہے کہ دل آپ کا ملے
ظاہر میں آپ مجھ سے ملے بھی تو کیا ملے
یہ آرزو ہے اب نہ رہے کوئی آرزو
یہ مدعا ہے اب دلِ بے مدعا ملے
دیتا ہے ترک عشقِ بتاں کی صلاح تو
واعظ خدا کرے کہ نہ تجھ کو خدا ملے
خاطر سے میری آپ اٹھائیں نہ غیر کو
محفل میں جا ملے نہ ملے دل میں جا ملے
دل خاک ہو کے بیٹھ نہ جائے تو کیا کرے
کوچے میں غیر کے جو ترا نقشِ پا ملے
حیراں کھڑا ہوا ہوں میں صحرائے عشق میں
یاور نصیب ہو تو کوئی رہنما ملے
اس گل بدن سے یوں ہوس اختلاط ہے
گلشن میں جیسے پھول سے بادِ صبا ملے
یہ گل رخان دہر وہ گل ہیں کہ نام کو
جن میں نہ خوئے مہر نہ بوئے وفا ملے
ہے خرقہ و قبا پہ عبث ناز امتیاز
یکساں ہیں جب کہ خاک میں شاہ و گدا ملے
عاشق کی موت وہ ہے کہ قرباں ہو جس پہ زیست
اور زیست وہ کہ موت کا جس میں مزا ملے
بے جا نہیں رکھوں جو میں محرومؔ اپنا نام
مجھ سے اگر نہ وہ بت نا آشنا ملے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست