کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا

حسرت موہانی


دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا
کہ یہ شیوہ نہیں اہل رضا کا
طلب میری بہت کچھ ہے ، مگر کیا
کرم تیرا ہے اک دریا عطا کا
کہاں تک ناز اٹھائے آخر اے حسن
ہوس تیرے مزاج خود ستا کا
نہیں معلوم کیا اے شاہِ خوباں
تجھے کچھ حال اپنے مبتلا کا
بجائے اسمِ اعظم آپ کا نام
وظیفہ ہے مرا صبح و مسا کا
غضب کا سامنا ہے عاشقوں کو
دیار حق میں افواج بلا کا
نثار ان پر ہوئے اچھے رہے ہم
تقاضا تھا یہی خوئے وفا کا
گنہ گارو چلو عفو الٰہی
بہت مشتاق ہے عرض خطا کا
تری محفل میں اہلِ دل کو جلوہ
نظر آ جائے گا شانِ خدا کا
اٹھایا ہے مزا دل نے بہت کچھ
محبت کے غم راحت فزا کا
جفا کو بھی وفا سمجھو کہ حسرتؔ
تمہیں حق ان سے کیا چون و چرا کا
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
ہزج مسدس محذوف
فہرست