دل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہوا

سیماب اکبر آبادی


تقدیر میں اضافۂ سوز وفا ہوا
دل میں جو تم نے آگ لگا دی تو کیا ہوا
کہتے ہیں جس کو موت ہے اک بے خودی کی نیند
اس کو فنا کہاں ہے جو تجھ پر فنا ہوا
اے خادمان حسن یہ کیا انتظام ہے
اب تک چراغِ طور پڑا ہے بجھا ہوا
ہستی و نیستی کی حدیں دور رہ گئیں
یہ آ گیا کہاں میں تجھے ڈھونڈتا ہوا
منہ سے دعا نکل ہی گئی وقت قتل بھی
کہنا یہ تھا کہ حق محبت ادا ہوا
بحث نیاز و ناز تھی کل بزمِ حسن میں
سیمابؔ کچھ خبر نہیں کیا فیصلہ ہوا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست