یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے

سیماب اکبر آبادی


دل تیرے تغافل سے خبردار نہ ہو جائے
یہ فتنہ کہیں خواب سے بیدار نہ ہو جائے
مدت سے یہی پردہ یہی پردہ دری ہے
ہو کوئی تو پردہ سے نمودار نہ ہو جائے
مجھ سے مرا افسانۂ ماضی نہ سنو تم
افسانہ نیا پھر کوئی تیار نہ ہو جائے
اے مستی الفت سبق کفر دیے جا
جب تک مجھے ہر چیز سے انکار نہ ہو جائے
ہونا ہے جو ہستی کو مری خاک ہی سیمابؔ
پہلے ہی سے کیوں خاکِ در یار نہ ہو جائے
فہرست