مرزا غالب


امام بخش ناسخ


انشاء اللہ خان انشا


بہادر شاہ ظفر


حیدر علی آتش

زلف کے حلقہ میں الجھا سبزہ گوش یار کا
ہو گیا سنگ زمرد خال چشم مار کا
ناخدا ہے موت جو دم ہے سو ہے بادِ مراد
عزم ہے کشتی تن کو بحرِ ہستی یار کا
زندگی میں بے ادب ہونے نہ دے تو رعب حسن
خاک ہے میری پس از مرگ اور دامن یار کا
نا فہمی اپنی پردہ ہے دیدار کے لیے
ورنہ کوئی نقاب نہیں یار کے لیے
سیری نہ ہو گی تشنۂِ دیدار کے لیے
پانی نہیں چہ ذقن یار کے لیے
اتنی ہی ہے نمود میری یار کے لیے
شہرہ ہے جس قدر مرے اشعار کے لیے
احساں جو ابتدا سے ہے آتش وہی ہے آج
کچھ انتہا نہیں کرم یار کے لیے
طرہ اسے جو حسنِ دل آزار نے کیا
اندھیر گیسوئے سیہ یار نے کیا
ناز و ادا کو ترک مرے یار نے کیا
غمزہ نیا یہ ترک ستم گار نے کیا
رنج لکھا ہے نصیبوں میں مرے راحت سے
خواب میں بھی ہوسِ یار لیے پھرتی ہے
اٹھ گئے وصل کی شب پیشتر از یار قدم
آگے ہم عمرِ رواں سے بھی چلے چار قدم
خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
یوسف تھا اگر تو تو خریدار ہمیں تھے
تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالب
تھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہمیں تھے

داغ دہلوی


شیخ ابراہیم ذوق


مصحفی غلام ہمدانی

بیٹھے بیٹھے جو ہم اے یار ہنسے اور روئے
آ گیا یاد تو اک بار ہنسے اور روئے
برق رخسارِ یار پھر چمکی
اس چمن کی بہار پھر چمکی
مصحفیؔ کی جو تو نے در ریزی
شاعری تیری یار پھر چمکی
ازبسکہ جی ہے تجھ بن بیزار زندگی سے
بہتر ہے مجھ کو مرنا اے یار زندگی سے
از بس بھلا لگے ہے تو میرے یار مجھ کو
بے اختیار تجھ پر آتا ہے پیار مجھ کو
میں کیوں کر نہ رکھوں عزیز اپنے دل کو
کہیں دل سا بھی یار پیدا ہوا ہے
گر اور بھی مری تربت پہ یار ٹھہرے گا
تو زیر خاک نہ یہ بے قرار ٹھہرے گا
مکھ پھاٹ منہ پہ کھائیں گے تلوار ہو سو ہو
دبنے کے بھی تو اس سے نہیں یار ہو سو ہو
جانا مجھے بھی اب طرف یار ہو سو ہو
یا بولے یا بتائے وہ دھتکار ہو سو ہو
ایک بوسہ بھی دے نہیں سکتا
مجھ کو پیارے تو یار کیسا ہے
حالِ دل بے قرار ہے اور
شاید کہ خیالِ یار ہے اور
دل سینے میں بیتاب ہے دل دار کدھر ہے
کوئی مجھ کو بتا دو وہ مرا یار کدھر ہے
طالبِ علم محبت جو میں تھا طفلی میں
تھی نت آنکھوں کی مرے حسن رخِ یار سے بحث
کھڑا نہ سن کے صدا میری ایک یار رہا
میں رہروان عدم کو بہت پکار رہا
لینے لگے جو چٹکی یک بار بیٹھے بیٹھے
یہ چھیڑ کیا نکالی اے یار بیٹھے بیٹھے

مصطفٰی خان شیفتہ

روز خوں ہوتے ہیں دو چار ترے کوچے میں
ایک ہنگامہ ہے اے یار ترے کوچے میں
سرفروش آتے ہیں اے یار ترے کوچے میں
گرم ہے موت کا بازار ترے کوچے میں
مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بیتاب ہیں مزار میں ہم
کب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم
گر نہیں شیفتہؔ خیالِ فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم
مر گئے ہیں جو ہجرِ یار میں ہم
سخت بے تاب ہیں مزار میں ہم
کب ہوئے خارِ راہِ غیر بھلا
کیوں کھٹکتے ہیں چشمِ یار میں ہم
گر نہیں شیفتہ خیالِ فراق
کیوں تڑپتے ہیں وصل یار میں ہم
بادہ بے ہودہ پی کے کیا کیجے
اب وہ ساقی نہیں وہ یار نہیں
سب حوصلہ جو صرف ہوا جورِ یار کا
مجھ پر گلہ رہا ستمِ روزگار کا
کیا اٹھ گیا ہے دیدۂِ اغیار سے حجاب
ٹپکا پڑے ہے کیوں نگہِ یار سے حجاب
روز و شبِ وصال مبارک ہو شیفتہ
جورِ فلک کو ہے ستمِ یار سے حجاب
گور میں یاد قدِ یار نے سونے نہ دیا
فتنۂِ حشر کو رفتار نے سونے نہ دیا
اثر آہ دلِ زار کی افواہیں ہیں
یعنی مجھ پر کرم یار کی افواہیں ہیں
کس توقع پہ جئیں شیفتہؔ مایوس کرم
غیر پر بھی ستمِ یار کی افواہیں ہیں

مومن خان مومن


فیض احمد فیض


مرزا رفیع سودا


یگانہ چنگیزی


جون ایلیا


جگر مراد آبادی


سراج الدین ظفر


عبدالحمید عدم


قمر جلالوی


شکیب جلالی


مصطفی زیدی


الطاف حسین حالی


جمال احسانی


احسان دانش


اختر شیرانی


بہزاد لکھنوی


بیخود بدایونی


زہرا نگاہ


ظہیر کاشمیری


عبید اللہ علیم


علی سردار جعفری


تلوک چند محروم


جلیل مانک پوری


جوش ملیح آبادی


حسرت موہانی


رسا چغتائی


سید ضمیر جعفری


سیف الدین سیف


سلام مچھلی شہری


سیماب اکبر آبادی


شاد عظیم آبادی


شکیل بدایونی


فانی بدایونی


احمد فراز

گر غمِ سود و زیاں ہے تو ٹھہر جا اے جاں
کہ اسی موڑ پہ یاروں سے ہوئے یار جدا
یہ جدائی کی گھڑی ہے کہ جھڑی ساون کی
میں جدا گریہ کناں، ابر جدا، یار جدا
ہم نے اک عمر بسر کی ہے غمِ یار کے ساتھ
میرؔ دو دن نہ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ
دیوانگی خرابیِ بسیار ہی سہی
کوئی تو خندہ زن ہے چلو یار ہی سہی
چل نکلتی ہیں غمِ یار سے باتیں کیا کیا
ہم نے بھی کیں در و دیوار سے باتیں کیا کیا
چشمِ گریاں میں وہ سیلاب تھے اے یار کہ بس
گرچہ کہتے رہے مجھ سے میرے غم خوار کہ بس
وہاں کیا داد خواہی کیا گواہی
جہاں ہوں منصفوں کے یار قاتل
ہم سر چاک وفا ہیں اور ترا دستِ ہنر
جو بنا دے گا ہمیں اے یار بن جائیں گے ہم
یہ بے دلی ہے تو کشتی سے یار کیا اتریں
ادھر بھی کون ہے دریا کے پار کیا اتریں
جو زخم داغ بنے ہیں وہ بھر گئے تھے فرازؔ
جو داغ زخم بنے ہیں وہ یار کیا اتریں
روگ ایسے بھی غمِ یار سے لگ جاتے ہیں
در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں
بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے
رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں
غرورِ جاں کو مرے یار بیچ دیتے ہیں
قبا کی حرص میں دستار بیچ دیتے ہیں
بس اتنا فرق ہے یوسف میں اور مجھ میں فرازؔ
کہ اس کو غیر مجھے یار بیچ دیتے ہیں
سب قرینے اسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
وقت وہ رنگ دکھاتا ہے کہ اہلِ دل بھی
طاق نسیاں پہ سخن یار کے رکھ دیتے ہیں
بھید پائیں تو رہِ یار میں گم ہو جائیں
ورنہ کس واسطے بے کار میں گم ہو جائیں
یہ اداس اداس سے بام و در یہ اجاڑ اجاڑ سی رہگزر
چلو ہم نہیں نہ سہی مگر سرِ کوئے یار کوئی تو ہو
کل پرسشِ احوال جو کی یار نے میرے
کس رشک سے دیکھا مجھے غم خوار نے میرے
جو سر بھی کشیدہ ہو اسے دار کرے ہے
اغیار تو کرتے تھے سو اب یار کرے ہے
سبھی کہیں مرے غم خوار کے علاوہ بھی
کوئی تو بات کروں یار کے علاوہ بھی
بجھا ہے دل تو غمِ یار اب کہاں تو بھی
بسان نقش بہ دیوار اب کہاں تو بھی
مری غزل میں کوئی اور کیسے در آئے
ستم تو یہ ہے کہ اے یار، اب کہاں تو بھی

امیر مینائی


شاذ تمکنت


فراق گورکھپوری


قتیل شفائی


کلیم عاجز


مجروح سلطان پوری


محسن احسان


ناصر کاظمی