میں اس کو پوجتا ہوں جو میرا خدا نہیں

اختر ہوشیارپوری


ہر چند سینے میں دل کفر آشنا نہیں
میں اس کو پوجتا ہوں جو میرا خدا نہیں
وہ میری زندگی ہے مگر زندگی کی طرح
مجھ سے خفا نہیں ہے کہ وہ بے وفا نہیں
کیا کیا نہ اپنے ساتھ زمانوں کو لائی ہے
وہ اک نگاہ جس سے کوئی آشنا نہیں
شاید میں خاکداں کے دھوئیں کی لکیر ہوں
وہ مجھ کو دیکھتا ہے مگر پوچھتا نہیں
گونج اس کی آج بھی مرے خلوت کدے میں ہے
وہ نغمہ جس کو تو نے دوبارہ سنا نہیں
ان راستوں کی گرد مری زندگی پہ ہے
جن راستوں پہ میں کبھی اخترؔ چلا نہیں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست