وہ کسی خوابِ گریزاں میں ملا ہے سو کہاں

احمد فراز


دشتِ افسردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں ملا ہے سو کہاں
ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں ان سے گلہ ہے سو کہاں
ہم تیری بزم سے اٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دکھ کا صلہ ہے سو کہاں
آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سلا ہے سو کہاں
بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں
جلوۂ دوست بھی دھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست