مستی شوق کہاں بندِ قبا جانتی ہے

احمد فراز


چاک پیراہنی گل کو صبا جانتی ہے
مستی شوق کہاں بندِ قبا جانتی ہے
ہم تو بدنام محبت تھے سو رسوا ٹھہرے
ناصحوں کو بھی مگر خلقِ خدا جانتی ہے
کون طاقوں پہ رہا کون سرِ راہ گزر
شہر کے سارے چراغوں کو ہوا جانتی ہے
ہوس انعام سمجھتی ہے کرم کو تیرے
اور محبت ہے کہ احساں کو سزا جانتی ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست