جس طرح آشنا کسی نا آشنا کے پاس

امیر مینائی


یوں دل مرا ہے اس صنمِ دلربا کے پاس
جس طرح آشنا کسی نا آشنا کے پاس
بولا وہ بت سرہانے مرے آ کے وقتِ نزع
فریاد کو ہماری چلے ہو خدا کے پاس؟
توفیق اتنی دے مجھے افلاس میں خدا
حاجت نہ لے کے جاؤں کبھی اغنیا کے پاس
رہتے ہیں ہاتھ باندھے ہوئے گلرخانِ دہر
یارب ہے کس بلا کا فسوں اس حنا کے پاس
پیچھے پڑا ہے افعیِ گیسو کے دل، امیر
جاتا ہے دوڑ دوڑ کے یہ خود قضا کے پاس
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست