دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر

امیر مینائی


کیا قصد جب کچھ کہوں ان کو جل کر
دبی بات ہونٹوں میں منہ سے نکل کر
گرا میں ضعیف اس کے کوچے کو چل کر
زمیں رحم کر تو ہی پہنچا دے ٹل کر
نئی سیر دیکھو سوئے قاف چل کر
سرِ راہ بیٹھی ہیں پریاں نکل کر
ادھر کی نہ ہو جائے دنیا ادھر کو
زمانے کو بدلو نہ آنکھیں بدل کر
وہ کرتے ہیں باتیں عجب چکنی چکنی
یہ مطلب کہ چوپٹ ہو کوئی پھسل کر
وہ مضطر ہوں، میں کیا مرے ساتھ گھڑیوں
تڑپتا ہے سایہ بھی کروٹ بدل کر
یہ کہتی ہے وہ زلف عمرِ خضر سے
کہ مجھ سے کہاں جائے گی تو نکل کر
گلستاں نہیں ہے یہ بزمِ سخن ہے
کہو شاعروں سے کہ پھولیں نہ پھل کر
غضب اوج پر ہے مری بے قراری
زمین آسماں بن گئی ہے اچھل کر
پڑا تیر دل پر جو منہ تو نے پھیرا
نشانہ اڑایا ہے کیا رخ بدل کر
نہ آئیں گے وہ آج کی شب بھی شاید
کہ تارے چھپے پھر فلک پر نکل کر
چلو وحشیو بزم گلزار مہکے
گل آئے ہیں پوشاک میں عطر مل کر
چھپا کب، بہت خاک ظالم نے ڈالی
شفق بن گیا خون میرا اچھل کر
کمر بال سی ہے ، نہ لچکے یہ ڈر ہے
جوانی پر اے ترک اتنا نہ بل کر
حضور اس کی باتیں جو کیں ڈرتے ڈرتے
کھڑا ہو رہا دور مطلب نکل کر
چھپے حرف گیری سے سب عیب میرے
ہوئی پردہ ہر بات میں تہ نکل کر
وہ ہوں لالہ ساں سوختہ بخت میکش
کہ مے ہو گئی داغ ساغر میں جل کر
کہے شعر امیر اس کمر کے ہزاروں
مگر رہ گئے کتنے پہلو نکل کر
فَعُولن فَعُولن فَعُولن فَعُولن
متقارب مثمن سالم
فہرست