سائے سائے مری نیندوں کے سرہانے سے گئے

شاذ تمکنت


خواب نادم ہیں کہ تعبیر دکھانے سے گئے
سائے سائے مری نیندوں کے سرہانے سے گئے
یوں بھی وہ دل ہو کہ درہم پہ کھلا رہتا ہے
اپنی اک وضع جنوں تھی کہ بہانے سے گئے
راکھ الاؤ کی یہ بکھری ہوئی جنگل کی یہ شام
کیا زمانے گئے کیا لوگ زمانے سے گئے
کوئی تصویر سرِ آب اٹھاتا ہے بھلا
اب ہمیں ڈھونڈتے کیا ہو کہ اٹھانے سے گئے
شاذؔ جی عشق میں ایسا ہی ہوا کرتا ہے
تم ہوئے قیس ہوئے دونوں ٹھکانے سے گئے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست