دنیا سے ڈر رہے تھے کہ دنیا بدل نہ جائے

شاذ تمکنت


سن کر بیان درد کلیجا دہل نہ جائے
دنیا سے ڈر رہے تھے کہ دنیا بدل نہ جائے
ہر محفلِ نشاط سے پھرتا ہوں دور دور
کیا احتیاط ہے کہ ترا غم بہل نہ جائے
تو آج تک تو ہے مری نظروں میں ہو بہ ہو
دنیا بدل گئی تری صورت بدل نہ جائے
ہیں طاق آرزو پہ کھلونے سجے ہوئے
مایوس آرزو کی طبیعت مچل نہ جائے
تشنہ لبی کہیں مجھے غرقاب کر نہ دے
تھوڑی سی روشنی کے لیے گھر ہی جل نہ جائے
اک خوف ہے کہ منزل نسیاں قریب ہے
تو وادی خیال سے آگے نکل نہ جائے
روؤں کہاں کہ راحت خلوت نہیں ہے شاذؔ
ہنسنے پہ بھی یہ شرط کہ آنسو نکل نہ جائے
مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن
مضارع مثمن اخرب
فہرست