مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہو گا

قابل اجمیری


دلِ دیوانہ عرضِ حال پر مائل تو کیا ہو گا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہو گا
ہمارا کیا ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے
مگر طوفان جا پہنچا لبِ ساحل تو کیا ہو گا
شرابِ ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے
ترا کیف نظر بھی ہو گیا شامل تو کیا ہو گا
خرد کی رہبری نے تو ہمیں یہ دن دکھائے ہیں
جنوں ہو جائے گا جب رہبرِ منزل تو کیا ہو گا
کوئی پوچھے تو ساحل پر بھروسا کرنے والوں سے
اگر طوفاں کی زد میں آ گیا ساحل تو کیا ہو گا
خود اس کی زندگی اب اس سے برہم ہوتی جاتی ہے
انہیں ہو گا بھی پاسِ خاطر قابلؔ تو کیا ہو گا
فہرست