ہم نے اس آئنے میں عکس اتارا کم ہے

محسن احسان


راکھ کچھ دل میں زیادہ ہے شرارا کم ہے
ہم نے اس آئنے میں عکس اتارا کم ہے
روشنی آج عجب تیرگی خاک میں ہے
آسماں دیکھ ترا ایک ستارا کم ہے
ڈھونڈتا پھرتا ہوں خار و خس و خاشاک میں حسن
میری بینائی کو سوغات نظارا کم ہے
مرگ یاران سخن سنج پہ خوں روتا ہوں
کیا کروں صبر کہ اب صبر کا یارا کم ہے
تم کو اندازۂ سیلاب نہیں ہے محسنؔ
بادلوں نے جو کیا کیا وہ اشارا کم ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست