انشاء اللہ خان انشا


مصطفٰی خان شیفتہ


باقی صدیقی


جگر مراد آبادی


سراج الدین ظفر


عبدالحمید عدم


قمر جلالوی


مجید امجد


الطاف حسین حالی


جمال احسانی


بشیر بدر


عبید اللہ علیم


غلام محمد قاصر


سیف الدین سیف


سلام مچھلی شہری


اقبال ساجد


فراق گورکھپوری

آنکھوں میں جو بات ہو گئی ہے
اک شرح حیات ہو گئی ہے
جس شے پہ نظر پڑی ہے تیری
تصویر حیات ہو گئی ہے
کیا جانیے موت پہلے کیا تھی
اب میری حیات ہو گئی ہے
اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے دردِ ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے
جینا جو آ گیا تو اجل بھی حیات ہے
اور یوں تو عمرِ خضر بھی کیا بے ثبات ہے
رکھ لی جنہوں نے کشمکش زندگی کی لاج
بے دردیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی
ہے عشق اس تبسم جاں بخش کا شہید
رنگینیاں لیے ہے جو صبح حیات کی
چھیڑا ہے دردِ عشق نے تار رگ عدم
صورت پکڑ چلی ہیں نوائیں حیات کی
سو درد اک تبسمِ پنہاں میں بند ہیں
تصویر ہوں فراقؔ نشاط حیات کی
دریا کے مد و جزر بھی پانی کے کھیل ہیں
ہستی ہی کے کرشمے ہیں کیا موت کیا حیات
مجھ کو تو غم نے فرصت غم بھی نہ دی فراقؔ
دے فرصت حیات نہ جیسے غمِ حیات
سنا تو ہے کہ کبھی بے نیاز غم تھی حیات
دلائی یاد نگاہوں نے تیری کب کی بات
زماں مکاں ہے فقط مد و جزر جوش حیات
بس ایک موج کی ہیں جھلکیاں قرار و ثبات
حیات بن گئی تھی جن میں ایک خواب حیات
ارے دوام و ابد تھے وہی تو کچھ لمحات
چمکتے درد کھلے چہرے مسکراتے اشک
سجائی جائے گی اب طرزِ نو سے بزم حیات
تری غزل تو نئی روح پھونک دیتی ہے
فراقؔ دیر سے چھوٹی ہوئی ہے نبض حیات