رونے لگے بات بات پر ہم

سیف الدین سیف


مغرور تھے اپنی ذات پر ہم
رونے لگے بات بات پر ہم
اے دل تری موت کا بھی غم ہے
خوش بھی ہیں تری نجات پر ہم
لٹ جائیں گے ضبطِ غم کے ہاتھوں
مر جائیں گے اپنی بات پر ہم
یہ بھی ترے غم کا آسرا ہے
ہنستے ہیں غمِ حیات پر ہم
کیا ناز تھا سیفؔ حوصلے پر
چپ ہو گئے ایک بات پر ہم
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست