کس کس کو سنائیں حال اپنا

سیف الدین سیف


جی درد سے ہے نڈھال اپنا
کس کس کو سنائیں حال اپنا
بولے وہ کچھ ایسی بے رخی سے
دل ہی میں رہا سوال اپنا
شاید تری سادگی نے اب تک
دیکھا ہی نہیں جمال اپنا
جس دن سے بھلا دیا ہے تو نے
آتا ہی نہیں خیال اپنا
ہے سیفؔ محیط ہر دو عالم
اک سلسلۂ خیال اپنا
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست