منظور ہمیں تباہ رہنا

ناصر کاظمی


بے منت خضرِ راہ رہنا
منظور ہمیں تباہ رہنا
یاروں کو نصیب سرفرازی
مجھ کو تری گردِ راہ رہنا
دل ایک عجیب گھر ہے پیارے
اس گھر میں بھی گاہ گاہ رہنا
گر یونہی رہی دلوں کی رنجش
مشکل ہے بہم نباہ رہنا
بھر آئے گی آنکھ بھی کسی دن
خالی نہیں صرفِ آہ رہنا
میں ہاتھ نہیں اسے لگایا
اے بیگنہی گواہ رہنا
ناصرؔ یہ وفا نہیں جنوں ہے
اپنا بھی نہ خیرخواہ رہنا!
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست