بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق

ناصر کاظمی


چراغ بن کے وہی جھلملائے شامِ فراق
بچا لیے تھے جو آنسو برائے شامِ فراق
کدھر چلے گئے وہ ہم نوائے شامِ فراق
کھڑی ہے در پہ مرے سر جھکائے شامِ فراق
پلک اٹھاتے ہی چنگاریاں برستی ہیں
بچھی ہے آگ سی کیا زیرپائے شامِ فراق
یہ رینگتی چلی آتی ہیں کیا لکیریں سی
یہ ڈھونڈتی ہے کسے سائے سائے شامِ فراق
کبھی یہ فکر کہ دن کو بھی منہ دکھانا ہے
کبھی یہ غم کہ پھر آئے نہ آئے شامِ فراق
وہ اشکِ خوں ہی سہی دل کا کوئی رنگ تو ہو
اب آ گئی ہے تو خالی نہ جائے شامِ فراق
بجھی بجھی سی ہے کیوں چاند کی ضیا ناصر
کہاں چلی ہے یہ کاسہ اٹھائے شامِ فراق
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلن
مجتث مثمن مخبون محذوف
فہرست