تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر

ناصر کاظمی


تیری مجبوریاں درست مگر
تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
تو جہاں چند روز ٹھہرا تھا
یاد کرتا ہے تجھ کو آج وہ گھر
ہم جہاں روز سیر کرتے تھے
آج سنسان ہے وہ راہگزر
تو جو ناگاہ سامنے آیا
رکھ لیے میں نے ہاتھ آنکھوں پر
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست