چھتوں پہ گھاس ہوا میں نمی پلٹ آئی

ناصر کاظمی


یہ خوابِ سبز ہے یا رت وہی پلٹ آئی
چھتوں پہ گھاس ہوا میں نمی پلٹ آئی
کچھ اس ادا سے دکھایا ہے تیری یاد نے دل
وہ لہر سی جو رگ و پے میں تھی پلٹ آئی
تری ہنسی کے گلابوں کو کوئی چھو نہ سکا
صبا بھی چند قدم ہی گئی پلٹ آئی
خبر نہیں وہ مرے ہم سفر کہاں پہنچے
کہ رہگزر تو مرے ساتھ ہی پلٹ آئی
کہاں سے لاؤ گے ناصر وہ چاند سی صورت
گر اتفاق سے وہ رات بھی پلٹ آئی
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست