بت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے

نوح ناروی


ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے
بت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈے سے خدا ملتا ہے
وقت پر کام نہ آیا دلِ ناشاد کبھی
ٹوٹ کر یہ بھی اسی شوخ سے جا ملتا ہے
وہ جو انکار بھی کرتے ہیں تو کس ناز کے ساتھ
مجھ کو ملنے میں نہ ملنے کا مزا ملتا ہے
یہ کدورت یہ عداوت یہ جفا خوب نہیں
مجھ کو مٹی میں ملا کر تمہیں کیا ملتا ہے
نوحؔ ہم کو نظر آیا نہ یہاں بت بھی کوئی
لوگ کہتے تھے کہ کعبہ میں خدا ملتا ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست