کیا جرم نجانے دلِ وحشی نے کیا ہے

ماجد صدیقی


جو مرحلۂ زیست ہے پہلے سے کڑا ہے
کیا جرم نجانے دلِ وحشی نے کیا ہے
جو آنکھ جھکی ہے ترے سجدے میں گرے ہے
جو ہاتھ تری سمت اٹھا، دستِ دعا ہے
تو ہے نہ ترا پیار ہے اس درد کا ہمسر
تجھ سے کہیں پہلے جو مرا دوست ہوا ہے
آتا ہے نظر اور ہی اب رنگِ گلستاں
خوشبو ہے گریزاں تو خفا موجِ صبا ہے
دل ہے سو ہے وابستۂ سنگِ در دوراں
اور اس کا دھڑکنا ترے قدموں کی صدا ہے
ماجدؔ ہے کرم برق کا پھر باغ پہ جیسے
پھر پیڑ کے گوشوں سے دھواں اٹھنے لگا ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست